کاروار :3/ جولائی (ایس او نیوز)اترکنڑا ضلع میں نشیلی اشیاء کی سپلائی اور استعمال بے تحاشہ جاری ہے، جس کے نتیجےمیں سڑک حادثات میں اضافہ ہورہاہے اور نوجوانوں کی جانیں ضائع ہوتی جارہی ہیں، نشیلی اشیاء،ڈرگس ، شراب نوشی کی وجہ سے حادثات میں اموات بڑھتی جا رہی ہے۔
گذشتہ ایک دو برس پہلے گانجہ ، افیم ، شراب جیسی نشیلی چیزوں کے متعلق بیداری کی باتیں جہاں تہاں سننے میں آتی تھیں ، آج کل وہ سب غائب ہوجانے سے انسانی جانیں بہت آسانی سے موت کے منہ میں جارہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پورے ضلع میں گانجہ وغیرہ کی بھرمار ہے۔ پاس پڑوس اور دور دراز کی ریاستیں کیرلا، گوا، بنگلورو سے گانجہ بیچنے والے اپنے جال کو وسعت دیتے ہوئے اترکنڑا ضلع تک پھیلایا ہے۔ ماناجارہاہے کہ اسی وجہ سے نوجوان مارے جارہے ہیں۔ گانجہ اور شراب نوشی کی وجہ سے نوجوان نشہ میں دھت ہوکر قومی شاہراہ پر اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوئے جھولے کی مانند سواریوں پر نکلتے ہیں تو جانیں کھو دیتے ہیں۔
گزشتہ دو تین مہینوں میں ہوئے سڑک حادثات واضح ثبوت پیش کرتی ہیں کہ یہ سب نشیلی اشیاء اور شراب نوشی کی لعنت ہیں۔ وہیں دیہی اور دیگر مقامات سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ نوجوانوں میں یہ لت حد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ کل تک صرف سیاحتی مقامات پر گانجہ کی گونج سنائی دیتی تھیں، اب ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہے۔ ضلع میں باہروالوں نے اپنے جال کو مضبوط کرتے ہوئے اپنے نظام کے ذریعے سپلائی میں مشغول ہیں۔ معززین کا کہنا ہے کہ یہ سب ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی محکمہ پولس کی خاموشی بھی ذمہ دارہے محکمہ کو سرگرم ہوکر اس پر قد غن لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی سطح پر بھی پولس محکمہ کے متعلق شکایت ہے کہ محکمہ کوئی انتظام نہیں کرپارہاہے۔ اس کے ثبوت کے طورپر اخبارات میں کہیں بھی گانجہ ضبط کئے جانےکی خبریں نہیں شائع ہورہی ہیں اور نہ ہی پولس محکمہ کی طرف سے اخبارا ت کو کوئی اطلاع مل پارہی ہے۔ اسی طرح ایکسائز محکمہ بھی اپنی جگہ خاموش ہونے کا عوام نے الزام لگایا ہے۔ آئے دن شراب ضبط کرنے والا ایکسائز عملہ بھی کوئی حرکت نہیں کئے جانے پر عوام نے اعتراض جتایا ہے۔